Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

WOHI SHIKAST E TAMANNA Saadat Hassan Manto The result is a redical

SKU: 95552783314

4.5
USD250.00 USD281.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 12 - Aug 17

Live Spec

WOHI SHIKAST E TAMANNA Saadat Hassan Manto The result is a redicalWOHI SHIKAST E TAMANNA

Store: live-language.pl · Domain: live-language.pl

Description

The result is a redical rethink of colonial historiography and a compelling argument for the reassessment of the historical tradition of Hindustan

Chand Ko Gul Karyn / Ushna Kosar Sardar

We disengage from our real life and our real relationships in order to hide in a false social media world

گذشتہ روز قومی محاذِ آذادی کے سینیئر رہنما مصدق حسین اسد کی کتاب "مصلحتوں کے مارے لوگ" کی تقریبِ رونمائی تھی۔ جس کی صدارت بائیں بازو کے نامور دانشور اور شاعر اسلم گورداسپوری نے کی۔ مہمانِ خصوصی ممتاز قانون دان حامد خاں ایڈووکیٹ اور راقم تھے۔ کاسمپولیٹین کلب کا ہال بائیں بازو کے دوستوں سے بھرا ہوا تھا۔ کتاب میں صاحبِ کتاب نے اپنی جد و جہد اور ملکی صورتحال پر کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کا طرزِ اسلوب سادہ مگر متاثر کن ہے۔ وہ جو بات کہنا چاہتے تھے انہوں نے بڑی سہولت سے بیان کر دی۔ ایک عام گھرانے کا فرد سیاست کے میدان میں کن مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور اس کے لیے کیا مسائل ہے وہ مصدق حسین اسد سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے انہوں نے سیاسی رہنماؤں خاص کر بائیں بازو کی لیڈرشپ اور ورکروں کو موقعہ پرستی اور مصلحت کا شکار ہونے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ ملکی سیاسی نظام اور لوگوں کی ابتر سماجی زندگی پر نوحہ کناں ہیں۔ صحافت سے لے کر عدلیہ تک کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر انہوں پر اپنی رائے نہ دی ہو ۔ ججوں کے سمجھوتے صحافیوں کی بد دیانتی وہ کھل کر سامنے لائے ہیں۔ عام شہریوں کو تعلیم ، انصاف ، خوراک اور علاج معالجے کی سہولتوں میں جن مصائب کا سامنا ہے وہ اسے بڑی درد مندی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جو غیر ملکی قرضہ ہم لیتے ہیں وہ کہاں جاتا ہے؟ یہ ساری باتیں ایک محب وطن پاکستانی ہی کر سکتا ہے۔ جو غریبوں کا دکھ سمجھتا ہے۔ انہیں گلہ ہے کہ ان کے نظریاتی ساتھی مصلحتوں کا شکار ہوئے اور انہیں این جی اوز نگل گئیں۔ ان سے کچھ باتوں پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ مکالمے کے آدمی ہیں۔ مثلا" میں سمجھتا ہوں جب مخصوص نظریات رکھنے والے لوگوں پر زندگی تنگ کر دی جائے ان پر ملازمتوں کے دروازے بند ہوں تو وہ کہاں جائیں ؟ ۔ زندہ رہنے کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا نا۔ اسی لیے بہت سے نظریاتی لوگ روزی روٹی کمانے کے لیے ملک سے باہر جا مقیم ہوئے۔ کچھ نے این جی اوز بنا لیں۔ ہاں مجھے اعتراض ہے ایسے لوگوں پر جنہوں نے اپنے نظریات تبدیل کر لیے یا غیر ملکی فنڈنگ پر یورپ اور امریکہ کی سرمایادارانہ پالیسیوں کے حامی بن گئے۔ یہ تقریب بہت اہمیت کی حامل تھی۔

اگر آپ ساحر و امرتا کے فین ہیں اور یہ نہیں پڑھا تو کچھ نہیں پڑھا آپ نے۔۔۔امرتا کا یہ ناول انتہاٸ درد ناک ہے۔۔یہ حقیقت پہ مبنی ایسی کتاب ہے جسے اپنے لہو سے لکھا گیا ہے۔۔۔تقسیم کے عام عوام کی نفسیات پہ گیا اثر ہوا؟تقسیم کی ہولناکیوں کو سامنے لاتا ہوا اک ناول

WOHI SHIKAST E TAMANNA Saadat Hassan Manto The result is a redicalWOHI SHIKAST E TAMANNA

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products